آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
کی زیر نگرانی دارالقضاء قائم کرنے کا طریقہ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے دارالقضاء قائم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہندوستان کے جن صوبوں میں امارت شرعیہ کا باقاعدہ نظام نہیں ہے، وہاں کے کسی شہر یا علاقہ سے جب قیام دارالقضاء کی درخواست صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی خدمت میں آتی ہے تو قیام دارالقضا کی کارروائی دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے شروع کی جاتی ہے۔
قیام دارالقضا کی درخواست
قیام دارالقضاء کی درخواست انفرادی طور پر کسی ایک شخص کی طرف سے نہ ہو بلکہ اس شہر یا علاقہ کے متعدد علماء ائمہ، ڈاکٹرس، وکلاء، تجارتی اور عمائدین کی طرف سے قیام دارالقضا کی درخواست ہونی چاہئے جس میں یہ صراحت ہو کہ ہمارے علاقہ، شہر،ضلع میں کوئی دارالقضاء وغیرہ موجود نہیں ہے اور اس کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے تنازعات خصوصاً عائلی جھگڑوں کو شرعی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکی نگرانی میں یہاں دارالقضاء قائم کیا جائے اور قاضی مقرر کیا جائے، ہم لوگ دارالقضاء کے تعلق سے تمام مالی اور انتظامی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دینے کے لئے تیار ہیں، صدر بورڈ دامت برکاتہم سے ہماری درخواست ہے کہ اس علاقہ، شہر،ضلع میں دارالقضاء قائم کریں اور قاضی مقررفرمائیں۔
اس درخواست پر دستخط کنندگان کے مکمل پتے اور فون نمبر بھی ہوں تاکہ بہ وقت ضرورت ان سے رابطہ کیاجاسکے، اس درخواست کی اصل کاپی صدر بورڈ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ پوسٹ بکس ۳۹ کے پتے پر بھیجی جائے اورایک ایک فوٹو کاپی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈاور کنوینر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام پر بورڈکے مرکزی آفس واقع دہلیبھیجی جائے۔
صدر بورڈ دامت برکاتہم کے نام اس طرح کی درخواست آنے کے بعد قیام دارالقضاء کی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے،بورڈ کی طرف سے آرگنائزردارالقضاء کمیٹی یا کسی اورمتعلق شخص کو جائزہ کے لئے بھیجا جاتا ہے، درخواست دہندگان سے رابطہ کر کے جائزہ لینے والا اس مقام کا سفر کرتا ہے جہاں سے قیام دارالقضاء کی درخواست آئی تھی، جائزہ لینے والا بنیادی طور پر چند چیزوں کو دیکھتا ہے(۱)کیا واقعی اس مقام پر کوئی دارالقضاء وغیرہ موجود نہیں ہے،(۲)کیا درخواست دہندگان اپنے علاقہ کے معتبر لوگ ہیں جو دارالقضاء کے تعلق سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو پوری کر سکتے ہیں، (۳)ان لوگوں کے پاس دارالقضاء کے لئے کوئی مناسب جگہ موجود ہے یا نہیں،(۴)کیا درخواست دہندگان دارالقضاء کی مالی ذمہ داریاں (قاضی اور کارکنان دارالقضاء کی تنخواہیں وغیرہ)پوری کر سکتے ہیں، (۵) کیا وہاں پر کار قضاء کو انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والا کوئی تربیت یافتہ عالم یا مفتی موجود ہے، جو قضاء کا کام کر سکے یا نہیں۔
جائزہ کے لئے جانے والا شخص درخواست دہندگان کے مشورہ وتعاون سے دارالقضاء کے لئے ماحول سازی بھی کرتا ہے، علماء و داعیان کو جمع کر کے کار قضاء کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہاں قیام دارالقضاء کا ماحول پیدا ہو۔
نصب قاضی کا جلسہ
جائزہ لینے والے کی مثبت رپورٹ کے بعد کارروائی آگے بڑھتی ہے، اگر وہاں کوئی ایسا تربیت یافتہ عالم موجود ہوتا ہے جس میں قضاء کا کام انجام دینے کی اہلیت ہو اور دارالقضاء کے لئے مناسب جگہ بھی موجود ہوتی ہے تو نصب قاضی کا جلسہ طے کردیا جاتا ہے، اس کی تاریخ کااعلان کردیا جاتا ہے، مقامی حضرات علماء، ائمہ اور عمائدین نیز عوام کو جمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، قضاء کے موضوع پر خصوصی نشست اور عوامی اجتماع ہوتا ہے، صدر بورڈ دامت برکاتہم کی جانب سے قاضی کو سند قضاء تفویض کی جاتی ہے، قاضی اورعوام دونوں سے جلسہ عام میں عہد لیا جاتا ہے، بڑا ایمان پرور اور نورانی منظر ہوتا ہے۔
دارالقضاء کی عمارت
دارالقضاء کے کاموں کے لئے ضرورت کے بقدر عمارت ہونا ضروری ہے، بہتر ہے کہ یہ عمارت دارالقضاء کی ملکیت ہو، لیکن ایسا نہ ہو پانے کی صورت میں کرایہ کی عمارت یا عاریت پر لی ہوئی عمارت میں بھی کام شروع کیا جا سکتا ہے،لیکن کوشش ہونی چاہئے کہ دارالقضاء کے پاس اپنی عمارت ہو۔
دارالقضاء کے کاموں کے لئے ضرورت کے بقدر عمارت ہونا ضروری ہے، بہتر ہے کہ یہ عمارت دارالقضاء کی ملکیت ہو، لیکن ایسا نہ ہو پانے کی صورت میں کرایہ کی عمارت یا عاریت پر لی ہوئی عمارت میں بھی کام شروع کیا جا سکتا ہے،لیکن کوشش ہونی چاہئے کہ دارالقضاء کے پاس اپنی عمارت ہو۔
دارالقضاء کی عمارت میں کم از کم تین کمرے ہونے چاہئے ایک بڑا کمرہ جس میں قاضی کا اجلاس ہو، اس میں اتنی جگہ ہو کہ پندرہ بیس آدمی آرام سے بیٹھ سکیں،کیونکہ بعض مقدمات میں مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کافی لوگوں کو ایک ساتھ بٹھانا پڑتا ہے،دو کمرے درمیانی سائز کے ہوں، ایک دارالقضاء کے آفس کے لئے، دوسرا ویٹنگ روم کے لئے، بہتر ہے کہ انتظار گاہ دو ہوں، ایک مردوں کے لئے، ایک عورتوں کے لئے، اور دونوں حصوں کے لئے طہارت خانہ وغیرہ کا بھی مناسب نظم ہو۔
الحمد للہ مسلمان اہل ثروت مخیرحضرات مختلف دینی کاموں کے لئے زمینیں اور عمارتیں وقف کرتے ہیں، تعمیرات کرواتے ہیں، جو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنتا ہے اور ذخیرہ ئآخرت ہوتاہے، بے شمار مساجد، مدارس، خانقاہیں، مسافر خانے مسلمانوں کے جذبہئ خیر کی شہادت دیتے ہیں، اسی طرح ہر ضلع بلکہ ہر تحصیل میں دارالقضاء کی عمارت ہونی چاہئے، جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت اورجذبہئ خیر سے مالا مال کیا ہے انہیں اس طرف متوجہ ہونا چاہئے تاکہ دارالقضاء کی ایک بنیادی ضرورت پوری ہو، عمارت کے بارے میں دارالقضاء خود کفیل ہو جائے، اس کے لئے کرایہ یا عاریت کی بلڈنگ نہ تلاش کرنی پڑے۔
اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ دارالقضاء کے لئے نفع بخش اوقاف قائم کئے جائیں جن کی آمدنی سے قاضی اور کارکنان دارالقضاء کو معقول تنخواہیں دی جا سکیں، دارالقضاء کی دفتری ضروریات پوری کی جا سکیں۔
دارالقضاء کے ماہانہ و سالانہ اخراجات
منتظمہ کمیٹی کی ذمہ داری اور کام
٭ منتظمہ کمیٹی مقامی اور علاقائی ارکان پر مشتمل ہو گی، اس میں ایسے علماء، ائمہ اور عمائدین شہر کو شامل کیا جائے گا جو دارالقضاء کی تحریک اور کاز میں مفید اور معاون ہوں اور دارالقضاء کا وقار و اعتبار پیدا کرنے اور دارالقضاء کے فیصلوں کی تنفیذ
٭ منتظمہ کمیٹی دارالقضاء کے انتظامی امور کی ذمہ دار ہو گی، دارالقضاء کے لئے مالیہ کی فراہمی بھی منتظمہ کمیٹی کا کام ہوگا، دارالقضاء کے لئے ایک محرر ضرور بحال کیا جائے، محرراور چپراسی کی بحالی اور ان کی معزولی بھی منتظمہ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگا، محررکی بحالی میں قاضی سے مشورہ کر لیا جائے۔
٭ دارالقضاء کا لوگوں میں تعارف اور اسکی تشہیر بھی منتظمہ کمیٹی کی اہم ذمہ داری ہے اس کے لئے کمیٹی مختلف ذرائع اختیار کرے گی سال میں دارالقضاء کا ایک پروگرام ضرور کرے گی جس میں نظام قضاء کی اہمیت و ضرورت پر تقریریں ہوں اور دارالقضاء کی سالانہ کارگذاری رپورٹ پیش کی جائے۔
٭ قاضی کی تقرری اور معزولی کا اختیار منتظمہ کمیٹی کو نہیں ہو گا، نہ ہی منتظمہ کمیٹی یا اس کا کوئی عہدہ دار یا رکن قضاء کے کاموں یا قاضی کے فیصلوں میں کوئی مداخلت کرے گا،قاضی کا تقرر آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے صدر محترم دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مشورہ سے فرمائیں گے،منتظمہ کمیٹی یا کمیٹی کے ذمہ داروں کو قاضی کے بارے میں اگر کوئی شکایت ہو تو براہ راست کوئی قدم اٹھانے کے بجائے صدر بورڈ دامت برکاتہم کی خدمت میں تحریری شکایت روانہ کریں صدر بورڈ محترم تحقیق کے بعد اس سلسلہ میں فیصلہ فرمائیں گے۔
٭ اگر قاضی صاحب استعفیٰ دے دیں تو منتظمہ کمیٹی اس کی اطلاع فوراً بورڈ کو دے بورڈ کسی کو قاضی نامزد کرے گا۔
٭ سائن بورڈ بنوا کر نمایاں جگہ آویزاں کیا جائے، سائن بورڈ میں اردو، انگریزی اور مقامی زبان میں لکھا جائے۔
٭ سائن بورڈ، لیٹر ہیڈ، اطلاع نامہ اور دیگر کاغذات میں دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا نام لکھا جائے۔
٭ فریقین کے لئے نشست گاہ، عورتوں کے لئے علیحدہ نشست گاہ اور طہارت خانہ وغیرہ کا معقول انتظام کیا جائے۔
٭ عہدہ قضاء بلند اور اہم ہے اس لئے قاضی شریعت، نائب قاضی شریعت اور محرر کا مشاہرہ مناسب اور بہتر ہو۔
٭ سالانہ مشاہرہ میں اضافہ، عیدی، چھٹیاں اور دیگر سہولتیں بھی دی جائیں۔
٭ دارالقضاء کے لئے جلد کوئی علیحدہ عمارت مخصوص کرنے کی کوشش کی جائے، جس میں مجلس قاضی، فریقین کے لئے نشست گاہ اور طہارت خانہ کا معقول انتظام ہو۔
٭ دارالقضاء میں کمپیوٹر و انٹرنیٹ کی بھی سہولت دستیاب کرانے کی کوشش کی جائے۔
٭ دارالقضاء میں خاص طور پر قضاء اور افتاء سے متعلق بعض اہم مراجع و مصادر کی کتابوں کی حصولیابی پر توجہ دی جائے اور اسے دارالقضاء میں محفوظ کیا جائے۔