دارالقضاء کمیٹی

تعارف و مقاصد

نظام قضاء شریعت اسلامی کا بہت اہم شعبہ ہے، انصاف قائم کرنا، حقوق کی حفاظت کرنا اور شریعت اسلامی کی تنفیذ مسلمان کا اہم ترین فریضہ ہے، مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع رکھے، چاہے شریعت کے حکم کی اس کے مزاج اور ظاہری مفاد کے خلاف ہو پھر بھی وہ اس کو قبول کرے، اسی کے لیے شریعت اسلامی میں نظام قضاء کا نظام رکھا گیا ہے کہ جس کے مسائل میں اختلاف و تنازع پیدا ہو جائے اس کو دارالقضاء میں قاضی کے سامنے پیش کیا جائے اور قاضی اس کی تحقیق کرے قرآن و حدیث کی روشنی میں جو بھی فیصلہ کرے فریقین سے قبول کرے اور اختلاف و نزاع سے بچیں، اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں مسلمان جہاں بھی رہے اور جس حال میں بھی رہے، انہوں نے نظام قضاء کو قائم رکھا اور اس پر عمل بھی کیا کیونکہ بغیر نظام قضاء شریعت کے مسلمان معاشرہ کے لیے اسلامی زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔

الحمدللہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی روشنی اور تحریک سے مسلمانوں میں اسلامی شریعت کے تئیں بیداری میں اضافہ ہوا ہے اور اپنی زندگی اور سماج میں احکام شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد تیز ہوئی ہے، اس سلسلہ کی ایک کڑی ہندوستان کے مختلف مقامات پر دارالقضاء کا قیام ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے ابتدائی قیام سے مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے نظام قضاء قائم کرنے اور اسے تنازعات اسلامی شریعت کی روشنی میں حل کرنے کی طرف متوجہ کیا اور اجلاس بھوپال (1993ء) میں ہندوستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں بورڈ کی طرف سے قائم دارالقضاء جو موجودہ حالات کے مطابق اور نظام قضاء کے قیام و استحکام کے پروگرام میں شامل کیا گیا اور نظام کی نگرانی کے لیے ایک مستقل کمیٹی بھی تشکیل دی، بورڈ کے اجلاس دہلی کے بعد بورڈ کی طرف سے مختلف صوبوں اور علاقوں میں دارالقضاء قائم ہونے اور ان کی بہتر کارکردگی سامنے آئی، لیکن ابھی اس کام میں مزید بہتری اور تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کا نظام عدل پانی اور ہوا کی طرح ہر جگہ عام و رائج ہو۔

ہندوستان کی عدالتیں پہلے سے مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، اس لیے اب یہ بات صاف نظر آنے لگی ہے کہ صرف مسلمان بلکہ ہندوستان کی بڑی کمیونٹی یعنی ہندو اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی ان عدالتوں میں رہتے ہوئے عدالت سے باہر معاملات کو حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، تاکہ کم خرچ اور کم وقت میں مدد ملے، دارالقضاء کا ذریعہ عدالت سے باہر کر کے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ کم کرنے میں معاون و مددگار ہے اور عدلیہ حکومت کے ADR کے منصوبہ کے عین مطابق ہے، سپریم کورٹ آف انڈیا بھی ایسے ہی فیصلے میں دارالقضاء کو قانونی قرار دینے جانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا:

It is not sanctioned under our constitutional scheme. But this does not mean that existence of Dar-ul-Qaza or for that matter practice of issuing Fatwas are themselves illegal. It is informal justice delivery system with an objective of bringing about amicable settlement between the parties. (WRIT PETITION NO. 386 OF 2005)

دارالقضاء کا قیام مسلمانوں کا شرعی و دینی فریضہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر علاقہ میں دارالقضاء قائم کریں۔