آزاد ہندوستان کی تاریخ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے قیام کی کوششیں آزادی کے ڈیڑھ دہائی بعد ہی شروع ہوگئی تھی،جب حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ شرعی قوانین کو بے اثر کرنے کی کوشش کی تو حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒنے ۲۸/ جولائی۱۹۶۳ء کوانجمن اسلامیہ ہال پٹنہ میں ”بہار اسٹیٹ مسلم پرسنل لا کانفرنس“ منعقد کی اور بعد میں بھی کوششیں جاری رکھیں اور ایک ایسے متحدہ پلیٹ فارم کے قیام پر غورو خوض چل ہی رہا تھا کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں لے پالک بل کے ذریعہ کھلم کھلا یہ اعلان کیا کہ یہ یونیفار م سول کوڈ کی طرف پہلا قدم ہے،حکومت کے اس اعلان کے بعد بورڈ کے قیام کی تحریک میں تیزی آگئی اور بالآخرمسلمانان ہند کے مختلف مسالک کی عظیم شخصیتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں اور اس سلسلہ کی سب سے پہلی نشست حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی صاحبؒ امیر شریعت رابع بہارواڑیسہ کی نگرانی اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی میں ۱۳/ و ۱۴/ مارچ ۱۹۷۲ ء کودیوبند میں ہوئی، جس میں طے پایا کہ مسلم پرسنل لا کا نمائندہ کنونشن ممبئی میں منعقد کیا جائے۔
چنانچہ ۲۷و۲۸/ دسمبر ۱۹۷۲ء کو یہ تاریخ ساز کنونشن منعقد ہوا، جس کو مسلمانان ہند کے تمام مکاتب فکر کی بھرپور تائید حاصل تھی، اس اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور ۷/ اپریل ۱۹۷۳ء کو اجلاس حیدرآباد میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی،حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ بورڈ کے پہلے صدر اور حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحبؒ بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے اور بورڈ کے پلیٹ فارم سے یہ پیغام دیا گیا کہ ہم باہمی جھگڑوں، مسلکی، سیاسی اور علاقائی گروہ بندیوں سے بالا تر ہو کرقانون شریعت کی حفاظت کے لئے پوری قوت اور کامل اتحاد کے ساتھ واضح موقف اختیار کریں گے۔ بورڈ نے شریعت اسلامی کے عائلی قوانین کے تحفظ، مسلمانوں کو معاشرتی زندگی کے شرعی آداب و احکام سے واقف کرانے اور مسلم معاشرہ سے تمام غیر اسلامی رسم و رواج اور غیر شرعی امور کو مٹا دینے کے لئے جامع منصوبہ بنایا۔ بورڈ نے اپنا کام شروع کیا۔ ملک کے ہر گوشہ میں مقامی، ضلعی اور صوبائی سطح پر عظیم کانفرنسیں اور اجتماعات منعقد ہوئے اور اس موضوع سے متعلق بیش قیمت رسائل بھی لکھے گئے اور ملک کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کراکرملک کے گوشے گوشے میں پہونچایا گیا جس سے لوگوں میں مسئلہ سے واقفیت پیدا ہوئی اور اس کی اہمیت کا احساس بیدار ہوا اور ان کے اندر اپنے حقوق کے تحفظ کا جذبہ اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوا۔ یہ مسلمانانِ ہند کے لئے ایک تاریخ ساز اور قابل قدر پیش رفت تھی جو مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک کے نتیجہ میں ہوئی۔
یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ہر موقع اور ہر مرحلہ پر بورڈ نے تحفظ شریعت کا کام کیا ہے اور عوامی بیداری کا سلسلہ جاری ہے،یہ بورڈ مسلمانان ہند کا متفقہ مرکزی ادارہ ہے اس میں تمام قابل ذکر اداروں اور شخصیتوں کی شرکت ہے اور حکومت بھی بورڈ کا وزن محسوس کرتی ہے،ان دنوں اصلاح معاشرہ،تفہیم شریعت،دارالقضاء اور عدالتوں میں قانونی دفاع کے سلسلہ میں کوششیں جاری ہیں۔
۱۷/ جولائی ۱۹۸۳ء کو حضرت قاری صاحبؒ کی وفات ہوئی اور ۲۸/ دسمبر ۱۹۸۳ء کو چنئی کے اجلاس میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو بورڈ کا دوسرا صدر منتخب کیا گیا، پھر حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی وفات کے بعد ۲۳/ اپریل ۲۰۰۰ء کو لکھنؤ کے اجلاس میں فقیہ ملت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کو بورڈ کا تیسرا صدر منتخب کیا گیا، حضرت مولانا قاضی صاحبؒ کی وفات کے بعد ۳۲/جون ۲۰۰۲ء کو حیدرآباد کے اجلاس میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحبؒ کا بحیثیت صدر انتخاب عمل میں آیا، ان کی وفات کے بعد اندور اجلاس میں ۳/جون ۲۰۲۳ء کو اتفاق رائے سے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو صدر منتخب کیا گیا۔ مختلف اوقات میں دیوبندی حلقہ سے امیر شریعت حضرت مولانا ابوالسعود احمدؒ، حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ اور اس وقت حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب بورڈ کے نائب صدر ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر سے حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوریؒ، حضرت مولانا مظفر حسین کچھو چھویؒ، حضرت مولانا سید شاہ محمد محمدالحسینی ؒ(سجادہ نشیں روضہ منورہ بزرگ گلبرگہ شریف)، حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف صاحبؒ (سجادہ نشیں آستانہ عالیہ مخدوم اشرف)،مولانا ڈاکٹر سید شاہ خسروحسینی صاحب سجادہ نشیں روضہئ منورہ بزرگ گلبرگہ اور اس وقت حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی (ممبئی)صاحب نائب صدر ہیں۔ شیعہ مکتبہ فکر سے حضرت مولانا سید کلب عابد مجتہدؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر سید کلب صادق صاحب قبلہ مجتہدؒ (لکھنؤ)، پروفیسر ڈاکٹر سید علی محمد نقوی صاحب (علی گڑھ) اور اس وقت مولانا سید محمد علی تقوی(دہلی) نائب صدر ہیں۔ اہل حدیث حلقہ سے حضرت مولانا ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفیؒ، حضرت مولانا مختار احمد ندویؒ، حضرت مولانا کاکا سعیداحمد عمری صاحب جامعہ دارالسلام عمرآباداور اس وقت حضرت مولانا اصغر امام مہدی سلفی صاحب نائب صدر ہیں۔ جماعت اسلامی سے حضرت مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ، حضرت مولانا محمدیوسف صاحبؒ، مولانا سراج الحسن صاحبؒ، حضرت مولانا سید جلال الدین عمری صاحبؒ اور اس وقت سید سعادت اللہ حسینی صاحب نائب صدر ہیں۔
بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی ؒ— جن کا بورڈ کی تاسیس میں بنیادی حصہ رہا ہے ؒ— کی ۱۹/ مارچ ۱۹۹۱ء کو وفات ہوئی، مئی ۱۹۹۱ء میں حضرت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ بورڈ کے دوسرے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے اور تا وفات ۱۷/اکتوبر۲۰۱۵ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے بعد ۱۶/اپریل ۲۰۱۶ء کو حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب بورڈ کے تیسرے جنرل سکریٹری بنائے گئے، مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ کی وفات ۳/اپریل ۲۰۲۱ء کو ہوگئی اس کے بعد حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو کارگزار جنرل سکریٹری بنایا گیا پھر کانپور کے اجلاس منعقدہ ۲۰/۲۱/نومبر ۲۰۲۱ء میں باقاعدہ جنرل سکریٹری بنایا گیا، پھر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحبؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب باتفاق رائے صدر منتخب ہوگئے۔ حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب کو ۳/جون ۲۰۲۳ء کو بورڈ کا جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ سابق میں جناب محمد یوسف پٹیلؒ، جناب محمد عبد الرحیم قریشیؒ، جناب عبد الستار یوسف شیخ ؒ، ظفریاب جیلانی صاحبؒ بورڈ کے سکریٹری رہ چکے ہیں اور اس وقت سکریٹریز کی حیثیت سے مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب، مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی صاحب اور مولانا ڈاکٹر یٰسین علی عثمانی بدایونی صاحب خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۳ء تک مصطفی فقیہ صاحبؒ پھر ۱۹۸۳ء سے ۴۰۰۲ء تک مولانا عبدالکریم پاریکھؒ (ناگپور) بورڈ کے خازن رہے اور ۲۰۰۵ء سے پروفیسر ریاض عمر صاحب (دہلی) سے یہ خدمت اب تک متعلق ہے۔